نئی دہلی،8/اگست (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 30 سے بڑھا کر 33 کئے جانے والے ایک اہم بل کو بدھ کو منظوری فراہم کردی۔راجیہ سبھا نے سیشن کے آخری دن سپریم کورٹ (جج تعداد) ترمیمی بل 2019 بغیربحث کے لوک سبھاکولوٹادیا۔لوک سبھا اسے پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ راجیہ سبھا میں چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے اس بل پر بحث کی تجویز رکھتے وقت ایوان کی توجہ اس بات کی طرف دلائی کہ یہ بل خزانہ بل ہے اگر ایسا ہے تو ایوان بالا اس پر بحث نہیں بھی کرے گا توبھی یہ خودکارطریقے منظورہوجائے گا لوک سبھا صدر نے اس بل کو دولت بل قرار دیا تھا۔چیئرمین نائیڈو نے سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کے انتقال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آنجہانی لیڈر کے اعزاز میں ہمیں اس بل کو بغیر کسی بحث کے منظور کرنا چاہیے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بھی ایوان کی توجہ اس جانب دلائی کہ یہ ایک چھوٹا سا بل ہے جس پرسپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد کو 30 سے بڑھا کر 33 کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس اس بل کی دفعات کی حمایت کرتی ہے۔ایوان میں بنی رضامندی کی بنیاد پر چیئرمین نے اس بل کو بغیر بحث کے واپس لوٹانے کی تجویز پیش کی جسے منظوری دے دی گئی۔اس سے پہلے بی ایس پی کے ستیش چندر مشرا نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اعلی عدلیہ میں ایس سی،ایس ٹی کی بھی نمائندگی ہو۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی عدلت عظمی میں چیف جسٹس (سی جے آئی) سمیت 31 جج ہیں۔سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) قانون، 1956 آخری بار 2009 میں ترمیم کیا گیا تھا۔تب سی جے آئی کے علاوہ ججوں کی تعداد 25 سے بڑھا کر 30 کی گئی تھی۔ ہندوستان کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے عدالت عظمی میں ججوں کی تعداد بڑھانے کی اپیل کی تھی۔ ہندوستان کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ججوں کی کمی کی وجہ سے قانون کے سوالات سے منسلک اہم معاملات میں فیصلہ لینے کے لئے ضروری آئینی بنچوں کا قیام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہندوستان کے سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔